Mahmood Asghar
Choudhary
Home
Columns
Immigration Columns
Pictures
Contacts
Feedback
جگنو بنیں.. 27 مارچ 2026
Download Urdu Fonts
جگنو بنیں ٹرمپ کی جانب سے جنگ کا وقفہ دس دن مزید طویل کرد یا گیا ہے ۔ آج ہی جرمنی کے وزیر خارجہ نے بھی بیان دیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے نمائندہ بہت جلد پاکستان میں براہ راست ملاقات کرنے جارہے ہیں پاکستان کے پرچم لگے جہازوں کا آبنائے ہر مز میں محفوظ طریقے سے گزرنے کی خبریں پاکستان پر دنیا کے اعتماد کی واحد ضمانت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے ۔ انڈین میڈیا دیکھیں تو ان کے تجزیہ کاروں کی ہاہا کار یہ بتا رہی ہے کہ پاکستانی خارجہ پالیسی کے چوکے چھکے ان کے ہوش اڑا رہے ہیں ۔ بین الاقوامی میڈیا لکھ رہا ہے کہ پاکستان نے خارجہ پالیسی کے محاذ پر انڈیا کوبہت پیچھے چھوڑ دیا ہے اگر آپ کوا اٹالین زبان آتی ہے تو ان دنوں اٹلی کا رائے نیوز دیکھ لیا کریں کہ کس طرح سارا دن پاکستان کی ثالثی کی جانب دنیا نظر لگا کر بیٹھی ہوئی ہیں لیکن پاکستان میں کچھ طبقے اس کا مذاق اڑا رہے ہیں ۔ ایک صحافی نہ تو یہ تک لکھ دیا کہ ان مذاکرات میں پاکستان کی حیثیت شادی ہال والی ہوگی ۔ یہ سوچ اگر بغض پر مبنی نہیں توپھر ماننا پڑے گا کہ کچھ حلقوں میں مایوسی ، إحساس کمتری اور کمزوری اپنی آخری حد کو چھو رہی ہے وہ قوم جسے اقبال ساری زندگی شاہین بننے کا درس دیتا رہا اس کے بعض ذہنوں پر کاکروچ کی کیفیت طاری ہوری ہے ۔ کاکروچ ایک عجیب مخلوق ہے۔ اندھیرے میں رہتا ہے، گندگی کا اتنا عادی ہوجاتا ہےکہ روشنی جلتے ہی سب سے پہلے بھاگتا ہے۔ اسے روشنی سے نفرت نہیں ہوتی۔ وہ اس کا عادی ہی نہیں ہوتا ۔ امید کی کرن سےکبھی اس کا واسطہ ہی نہیں پڑا ہوتا بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں بھی کچھ لوگ ایسے ہی ہیں جو ہر اچھی خبر سے گھبراتے ہیں، ہر کامیابی میں کیڑے نکالتے ہیں، ہر مثبت پیش رفت کا مذاق اڑاتے ہیں۔ جیسے ہی پاکستان کے بارے میں کوئی اچھی خبر آتی ہے، کوئی سفارتی کامیابی ہوتی ہے، کوئی عالمی سطح پر تعریف ہوتی ہے،امید یا روشنی کی کوئی کرن جگمگاتی ہے یہ خوف زدہ ہوجاتے ہیں ۔ ہمیں حکومت پر تنقید ضرور کرنی چاہیے، لیکن تنقید اور تضحیک میں ، تجزیے اور تماشے میں فرق ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پچھلے کچھ مہینوں میں پاکستان کی سفارتکاری نے خاموشی سے وہ کام کیے ہیں جن کی گونج کے باعث یورپ سے لے کر امریکہ تک پاکستان کا نام ایک سنجیدہ، ذمہ دار اور مصالحت پیدا کرنے والے ملک کے طور پر لیا جا رہا ہے ۔ اس وقت ضرورت ہےکہ سب سے پہلے قوم کے دلوں سے ا حساس کمتری ختم کی جائے ۔ احساسِ کمتری وہ بیماری ہے۔جس میں اپنی ہر کامیابی چھوٹی لگتی ہے اور دوسروں کی ہر کامیابی بہت بڑی۔اس کے مریض کو یقین ہی نہیں آتا کہ ہم بھی کچھ کر سکتے ہیں، ہماری بات بھی سنی جا سکتی ہے، ہم بھی کسی میز پر اہم ہو سکتے ہیں۔ پھر وہ خود ہی اپنی کامیابیوں کا مذاق اڑانا شروع کر دیتا ہے۔ایسے لوگوں کی مثال واقعی کاکروچ جیسی ہے۔ کاکروچ کو اگر آپ سونے کے محل میں بھی چھوڑ دیں تو وہ سیدھا نالی میں جائے گا، ۔ اس لیے سوچ کے معاملے میں کاکروچوں کے پیچھے مت چلیں ، جگنو بنیں امید کی شمع جلائیں ۔ جگنو کی روشنی بہت چھوٹی ہوتی ہے، لیکن وہ اندھیرے سے لڑتا نہیں، صرف چمکتا ہے، اور اس کی وہ چھوٹی سی روشنی بھی کسی بھٹکے ہوئے مسافر کو راستہ دکھا دیتی ہے۔ اگر جگنو بھی یہ سوچ کر بیٹھ جائے کہ میری روشنی کیا کر لے گی، تو شاید کوئی مسافر کبھی منزل تک نہ پہنچ سکے۔ اس وقت اس جنگ کا خاتمہ صرف ایران کے لئے نہیں بلکہ اس پورے خطے کے لئے ضروری ہے ۔ پوری خطے کے لئے کیا بلکہ پوری دنیا کے لئے ضروری ہے ۔ جنگ میں فتح وہ نہیں ہوتی جس میں فاتح آخر میں راکھ کے ڈیر پر بیٹھ کر جشن منائے ۔ پاکستان کو اپنی پوری کوشش کرنی چاہئے کہ وہ ایران اور امریکہ کو درمیان اس ثالثی کا کردار ادا کرے اور دنیا کو ایک نئے عالمی خطرے سے نجات دلائے ۔ اورہمیں بطور قوم اور اس دنیا کا شہری ہر اس ملک کو خراج تحسین پیش کرنا چاہئے جو امن کے فروغ میں اپنا کردار اد اکرے دنیا کو جگنووں کی ضرورت ہے اس لئے جگنو بنیں جگنو کي روشني ہے کاشانہء چمن ميں يا شمع جل رہي ہے پھولوں کي انجمن ميں لے آئي جس کو قدرت خلوت سے انجمن ميں چھوٹے سے چاند ميں ہے ظلمت بھي روشني بھي #محموداصغرچودھری
Your comments about this column
اس کالم کے بارے میں آپ کے تاثرات
To change keyboard language from urdu to english or from english to urdu press CTRL+SPACE
آپ کا نام
Admin Login
LOGIN
MAIN MENU
کالمز
امیگریشن کالمز
تصاویر
رابطہ
تازہ ترین
فیڈ بیک
Mahmood Asghar Chaudhry
Crea il tuo badge
Mahmood Asghar Ch.