Mahmood Asghar
Choudhary
Home
Columns
Immigration Columns
Pictures
Contacts
Feedback
پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ ... 24 مارچ
Download Urdu Fonts
پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ پاکستان کی حالت اس وقت بتیس دانتوں میں پھنسی زبان والی تھی لیکن کردار بھی اس نے زبان والا ہی ادا کیا اپنی کمال خارجہ پالیسی سے دنیا کو حیران و ششدر کر دیا ہے گزشتہ سال دس مئی سے خارجہ وداخلہ پالیسی سے کامیابیوں کا شروع ہونے والا یہ سفر ہر روز پاکستان کو سربلند کر رہا ہے ۔ کل کے انٹرنیشنل میڈیا کو دیکھ لیں امریکہ سے لیکر برطانیہ تک اور اسرائیل سے لیکر ترکی تک صرف ایک ہی نام گونج رہا ہے اور وہ ہے پاکستان ۔ پاکستان کے بارے صوفی برکت کے کہے ہوئے الفاظ لگتا ہے اب سچ ثابت ہو رہے ہیں کہ اب اس کی ہاں میں دنیا کی ہاں شامل ہو رہی ہے یقین نہیں آتا کہ کل تک جس ملک کو ناکام ریاست اور آئی ایم ایف کے قرضوں میں جکڑی ہوئے معشیت کا طعنہ دیا جا رہا تھا وہ دنیا کے اسٹیج پر ا س مقام تک کیسے پہنچی کہ اب دنیا اگلے مذاکرات اسلام آباد میں ہونے تک کی نوید دے رہے ہیں یہ سہرا تین لوگوں کے سارے جاتا ہے جنہوں نے چومکھی لڑائی سے سب کو انگیج رکھا سب سے پہلے بلا شبہ جنرل سید عاصم منیر پتہ نہیں کتنے مضبوط اعصاب کا بندہ ہے جو اتنا پریشر برداشت کر لیتا ہے ۔ دوسرے شہباز شریف جو پتہ نہیں کون سی زبان سے سعودی عرب اور دیگر ممالک کو شیشے مین اتارتا ہے اور بلاشبہ تیسرا نام اسحاق ڈار کا ہے جو روزانہ کی بنیاد پر ایران کو اس طرح قابو میں رکھے ہوئے تھے کہ ہر روز ایران سے تشکر کے نعرے بلند ہوئے یہ تو سیاست کا ادنیٰ سا طالبعلم بھی جانتا ہے کہ حالات اتنے گھمبیر ہیں کہ کوئی بھی بات حتمی طور پر نہیں کی جا سکتی طاقت و اختیار ان کے ہاتھ میں ہیں کہ جن کی کسی بات کا اعتبار ممکن نہین ہے اور پانچ دن کے جنگ کے وقفے پر بہت زیادہ بغلیں بھی نہیں بجائی جا سکتیں پل پل کی بدلتی صورت حال میں ایک پل کا تبصرہ بھی پورے تیقن سے نہین کیا جا سکتا لیکن کیا مختصر کامیابی کی داد نہیں دینی چاہیے ۔ کیا اپنے ہی ملک کی سرفرازی ہمیں ہضم نہیں ہوتی کیا ہماری وطن سے محبت اتنی گئی گزری ہے کہ ہم اس کی تعریف میں بخل کریں اس وقت بھی اگر کوئی دودھ میں مینگنیاں ڈالنا شروع کر دے تو وہ دل سے اس ملک کا بد خواہ ہی ہوگا کل ۲۳ مارچ کو جو پاکستان نے ثالثی کا کردار ادا کیا اگر وہ لمبے عرصے کے لئے نتیجہ خیز ثابت ہوگیا تو تئیس مارچ 1940 سے بڑا تئیس مارچ 2026 کا کہلائے گا جو صرف پاکستان کے لئے ہے ہی نہیں دنیا بھر کے لئے ایک یادگار دن بنے گا کہ کس طرح جنگ ایٹمی دھانے پر پہنچ چکی تھی اور ایک ملک نے آکر شطرنج کی ساری بساط ہی پلٹ دی پاکستان کی حالت اس وقت موت کے کنویں میں موٹر سائیکل چلنے والے جانباز کی ہے آگ جس کے چاروں طرف بھڑک رہی ہے ۔ وہ اس کنویں میں توازن برقرار رکھنے کی کوشش کررہا ہے کہ ہلکی سے جنبش حادثے کا سبب بن سکتی ہے نیچے کھائی ہے جہاں ایک طرف سعودی عرب ہے جو کہتا ہے کہ ہمارے ساتھ ہوئے دفاعی معاہدے پر عمل کرو۔ ایک طرف ایران جس سے محبت رکھنے والی پچیس فیصد شیعہ آبادی پاکستان مین موجود ہے اور جس کو کوئی بھی شر پسند فرقہ پرستی کے نام پر بھڑکا سکتا ہے ایک جانب معیشت اور توانائی کا بحران ہے جو اس موٹرسائیکل کو کبھی بھی بیچ راستے جمود کا شکار کر سکتا ہے تو دوسری جانب اس کنویں کے پھٹوں کا انچارج ڈونلڈ ٹرمپ ہے جس کی کسی بھی بات کی مثال اس کنویں کے لکڑی کے پھٹوں کے کھڑ کھڑ جیسی ہے جس کی مضبوطی پر حتمی یقین نہیں کیا جا سکتا اور ہاں ا س موٹر سائیکل کو چلانے والے کا نام ہے سید عاصم منیر جس نے توازن بھی برقرار رکھنا ہے ۔ ایندھن کا بھی خیال رکھنا ہے پھٹوں کی حرکت کو بھی نوٹ کرنا ہے اور کنارے پر کھڑے تماش بینوں کی بھی پرواہ نہیں کرنی ابھی تک وہ کامیاب ہیں سعودی ولی عہد ان کی بات مان رہا ہے ۔ ایران اعلانیہ تشکر کہہ رہا ہے ۔ ڈونلڈ ٹرمپ اسے "اپنا پسندیدہ فیلڈ مارشل" کہہ رہا ہے لیکن یہ توازن کتنی دیر تک رہتا ہے یہ سوال بہت اہم ہے تماشہ دیکھنے کو ساری دنیا کے ساتھ ملک کے اندر ناراض طبقہ بھی تالی بجانے کو تیار بیٹھا ہے جنگ میں پانچ دن کا وقفہ ہوا ہے مگر ملین ڈالر کوئسچن یہ ہے کہ یہ وقفہ طویل ہوگا یا نہیں ؟ حالات کو بغیر کسی جذباتی تجزیے کے یہ کہا جا سکتا ہے کہ زیادہ پر امید ہونا بنتا نہیں خاص طور پر ایسے وقت میں جب اس مختصر وقفے میں بھی دونوں فریقین کریڈیٹ لینے کے چکر میں ہیں ایران یہ دعوے کر رہا ہے کہ امریکہ اس سے ڈر گیا ہے ۔ امریکہ دعوے کر رہا ہے کہ آبنائے ہرمز بس کھلا ہے سمجھو ایسے تناظر میں جنگ کے اس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں امید کی صرف ایک کرن ہے جس پر دنیا بھر کی نظریں ہیں اور یقین مانیں وہ کرن ہے پاکستان وہ شہر ہے اسلام آباد ۔ یہ ڈرامہ دکھائے گا کیا سین بس پردہ اُٹھنے کی منتظرِ ہے نگاہ بطور پاکستانی اور بطور ایک امن پسند شہری میری تو دعا ہے کہ کسی بھی طریقے سے یہ جنگ رک جائے اور امن بحال ہو چاہے ا سکا کریڈیٹ اس ہاتھی کو ہی دے دیں جو جنگل تاراج کرنے آیا تھا #محموداصغرچودھری
Your comments about this column
اس کالم کے بارے میں آپ کے تاثرات
To change keyboard language from urdu to english or from english to urdu press CTRL+SPACE
آپ کا نام
Admin Login
LOGIN
MAIN MENU
کالمز
امیگریشن کالمز
تصاویر
رابطہ
تازہ ترین
فیڈ بیک
Mahmood Asghar Chaudhry
Crea il tuo badge
Mahmood Asghar Ch.