Mahmood Asghar

Choudhary

روایت شکن ... رمضان 2026
Download Urdu Fonts
روایت شکن ہمارے گاؤن مین اکثریت سنیوں کی تھی اور وہ اتنے پکے سنی تھی کہ ایک دن گاؤں میں شہر سے ایک نوجوان آیا ہوا تھا اس نے سپیکر آن کر کے اذان شروع کر دی اور اس سے پہلے درود شریف نہ پڑھا تو محلے کی مائیاں مجھے روک روک کر پوچھنا شروع ہو گئی یہ اذان کس نالائق نے دی ہے میں نے سمجھانے کی کوشش کی مائی جی اذان درود کے بغیر بھی ہوجاتی ہے ایک ماُئئ جی کہنے لگی نہ بچہ نہ جس دل میں سوہنے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی محبت نہیں وہ بھی کوئی دل ہے اور جس نیک عمل سے پہلے سچے نبی پر درود نہ بھیجا وہ بھی کوئی عمل ہے پھر ایک دوسری مائی جی نے مشہور جملہ بولا ہائے ہائے ۔۔۔۔ نہ فاتحہ نہ درود ہمارے محلے کی مسجد میں امام صاحب کی جگہ خالی ہوئی تو نماز ذوالفقار صاحب نے پڑھانی شروع کر دی جو کسی درس سے فارغ التحصیل مولوی تو نہیں تھے مگر دین سے گہری رغبت رکھتے تھے میں ان دنوں کالج میں پڑھتا تھا ہم دونوں میں ایک چیز مشترک تھی اور وہ تھی کتابیں پڑھنا ان کتابوں کا فائدہ یہ تھا کہ ہمارے اندر انتہا پسندی کی بجائے دوسرے مسالک کے لئے بغض کا نہیں بلکہ قربت اور ان کے نکتہ نظر کو سمجھنے جاننے اور پرکھنے کا جذبہ زیادہ تھا ۔ اس لئے بہت سے معاملات ہم باہمی صلاح مشورے سے حل کرنے کی کوشش کرتے مثلا ایک دن کہنے لگے یار محمود ۔ ویسے یہ جو دیوبندی کہتے ہیں کہ اذان سے پہلے درود پڑھنا بدعت ہے یہ بات تو سچی کرتے ہیں ۔ ہم بھی ان دنوں پکے سنی تھے لیکن دلیل کی بات کو سنتے اور سمجھتے تھے میں نے بھی ان کی ہاں میں ہاں ملائی اور کہا کہ کہ واقعی پیارے نبی مکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر درود بھیجنا تو بڑی سعادت کی بات ہے لیکن اسے اذان کے ساتھ جوڑ کر پڑھنا اور اسے اذان کا حصہ بنا لینا یہ واقعی سوالیہ نشان ہے ؟ ہم دنوں “مجتہدین “نے صلاح مشورہ کر کے فیصلہ کیا کہ ہم درود شریف اور اذان میں فاصلہ رکھ کر اذان دیا کریں گے اس طرح ہمارا عشق رسول بھی سلامت رہے گا اور اذان بھی صحابہ کے طریقے پر قائم رہے گی ہم نے صرف اجتہاد نہیں کیا بلکہ ا س پر عمل کرنے کی بھی ٹھان لی ذوالفقار صاحب نے ایسا کرنا کہ اذان کے وقت سپیکر کھولنا اس پر درود و سلام پڑھنا اور پھر وقفہ کرنے کے لئے مسجد کے صحن میں آجانا کچھ لمحات مجھ سے گپ شپ کرنا اور پھر جا کر اللہ اکبر سے اذان شروع کر دینا ہمارے اس اجتہاد کا فائدہ یہ ہوا کہ بدعت سے بھی بچت ہوگئی عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے تقاضے بھی پورے ہو گئے یعنی مکمل وہابی بھی نہ ہوئے اور ہماری محبت رسول میں بھی فرق نہ آیا یہ طریقہ کار سارا سال تو اچھے طریقے سے کارگر رہا مگر رمضان میں مسئلہ بن گیا رمضان میں لوگ کیلنڈر تو رکھتےنہیں تھے لاؤڈ سپیکر پر اذان کی اللہ اکبر کی صدا پر روزہ کھولتے تھے ذوالفقار صاحب کو چونکہ عادت پڑ چکی تھی درود اور اذان میں وقفہ رکھنے کی اس لئے انہوں نے رمضان میں بھی وہی طریقہ رکھا لیکن یہ طریقہ لوگوں کے لہے الجھن کا باعث تھا وہ کھجور ہاتھ میں پکڑ کے ذوالفقار صاحب کا انتظار کرتے رہتے کہ کب وہ درود شریف ختم کریں اور اللہ اکبر کی صدا بلند کریں دقفے کی وجہ سے انہین سمجھ نہیں آتی تھی کہ روزہ کھل گیا ہے یا نہیں گاؤں کی مائیاں بابے پھر سراپا احتجاج ہوئیں کہ یہ آپ لوگوں نے کون سا نیا طریقہ نکالا ہے ٹھیک طریقے سے اذان دیا کریں یہ وقفے نہ رکھا کریں اس دن مجھے اندازہ ہوا کہ مصالحتوں کی خاطر مصلحتیں تلاش کرنا اور روایات کو بدلنا اتنا آسان نہیں ہوتا لیکن کوشش پھر بھی کرتے رہنی چاہیے #محموداصغرچودھری



Your comments about this column
اس کالم کے بارے میں آپ کے تاثرات
To change keyboard language from urdu to english or from english to urdu press CTRL+SPACE
آپ کا نام

Admin Login
LOGIN