Mahmood Asghar
Choudhary
Home
Columns
Immigration Columns
Pictures
Contacts
Feedback
لیبر کی 96 سال بعد مانچسٹر میںشکست ....27 فروری 2026
Download Urdu Fonts
مانچسٹر میں 1931ء کے بعد پہلی دفعہ تاریخی بدلی بابا جی نے ایک ماہ پہلے ہی بتا دیا تھا کہ لیبر اس دفعہ صرف ہارے گی نہیں بلکہ تیسرے نمبر پر آئے گی لیکن کچھ یار دوستوں نے لیبر کی مفت کی ڈنر پارٹیاں کھا کر تبصر ہ کیا تھا کہ جناب ایسی کوئی بات نہیں ہے ۔ لیبر نے ایڑھی چوٹی کا زور لگا دیا ہے ۔ لوسی پاؤل سے لیکر لندن کے مئیر صادق خان تک اور مانچسٹر کے مئیر اینڈی برنم سے لیکر ملک کے وزیر اعظم کئیر اسٹارمر تک کو مانچسٹر لے آئے ہیں اور ایک ایک گھر میں تین تین دفعہ دستک دیکر اپنے روٹھے ووٹروں کو منانے کی کوشش کررہے ہیں اس لئے جیت انہی کی یقینی ہے ۔ لیکن ہم نے ان یار دوستوں کویہی بتا دیا تھا کہ یہ برطانوی عوام ہیں یہاں ووٹ کی سینس ہے ۔ یہاں پارٹی ڈیلیور نہ کرے یا اپنے منشور سے یو ٹرن لے تو ووٹر اپنا راستہ خود متعین کرتا ہے ۔ کلٹ نہیں بنتا۔ لیڈر کی محبت میں مرجانے کا اعلان نہیں کرتا ۔ بڑی خاموشی سے راستہ بدل لیتا ہے اور یہاں الیکشن منیج بھی نہیں ہوتے اپنے مرضی کے رزلٹ لائے بھی نہیں جاتے گرین پارٹی جو ضمنی الیکشن میں آج تک ایک بھی سیٹ نہیں جیتی جس نے کبھی دس فیصد سے زیادہ ووٹ نہیں لئے ۔اس نے چالیس فیصد ووٹ حاصل کئے ۔ دوسری جانب لیبر 1931ء سے لیکر آج تک اس علاقے میں کبھی نہیں ہارا تیسرے نمبر پر آگر 2024کے مقابلے میں پچاس فیصد ووٹ کم لئے ۔ گرین کو جتانے میں ویسے تو ان کا منشور جیسا کے کاسٹ آف لیونگ ، معاشی مساوت اور این ایچ ایس سمیے پبلک سروسز نے کردار ادا کیا ہے لیکن دوسری جانب رمضان کے مہینے میں مسلمانوں کے ووٹ نے بھی گہرا اثر ڈالا ہے ۔غ زہ پر لیبر کی دوغلی پالیسی ، اور ملک میں اسلامو فوبیا کی بڑھوتی بھی لیبر کی جڑوں میں بیٹھ گئی ہے ۔ مساجد میں ایسی ویڈیوز موجود ہیں جس میں لیبر کے ایم پی کو نمازیوں کی جانب سے ٹرول کیا جا رہا ہے اور اسے جینو سائیڈ کا حمایتی کہا جا رہا ہے اس سارے معاملے میں خوشی کی بات ہے کہ امیگرنٹ اور مسلمان مخالف ریفارم یوکے نہیں جیت سکی ۔ حالانکہ لگتا تھا کہ دو لیفٹ آرم پارٹیوں کی آپسی تقسیم ایک انتہا پسند رائٹ ونگ کی جیت کی وجہ بنی گی مگر ایسا نہیں ہوا ۔ لیبر نے بھی یہ کہہ کر عوام کو ڈرانے کی کوشش کی تھی کہ گرین کو ووٹ دو گے تو ریفارم آجائے گی ۔ گرین پارٹی نے اپنی مد مقابل ریفارم یوکے سے 12پوائنٹ آگے جا کر ثابت کیا ہے کہ برطانوی عوام اپنا فیصلہ سنانا جانتے ہیں اور وہ انتہا پسند کو مسترد کرتے ہیں لیکن یہ بات البتہ قابل تشویش ہے کہ ریفارم یوکے لیبر سے آگے ہیں یہ بات بھی ایک مہینے پہلے ہی بتا دی تھی کہ اگر ڈینٹن کی یہ سیٹ لیبر ہار گئی تو کئیر اسٹارمر کی مقبولیت کو ڈینٹ ڈالے گی اور اس ڈینٹ کے نشانات 7 مئی کو ہونے والے لوکل انتخابات میں بھی نظر آئیں گے
Your comments about this column
اس کالم کے بارے میں آپ کے تاثرات
To change keyboard language from urdu to english or from english to urdu press CTRL+SPACE
آپ کا نام
Admin Login
LOGIN
MAIN MENU
کالمز
امیگریشن کالمز
تصاویر
رابطہ
تازہ ترین
فیڈ بیک
Mahmood Asghar Chaudhry
Crea il tuo badge
Mahmood Asghar Ch.