Mahmood Asghar
Choudhary
Home
Columns
Immigration Columns
Pictures
Contacts
Feedback
ایپسٹن فائلز ... 11 جنوری 2026
Download Urdu Fonts
ایپسٹن فائلز دنیا کی سب سے بڑی سچائی دولت ہے۔ اگر آپ امیر ہیں تو آپ کا ہر گناہ، ہر جرم اور ہر مکروہ فعل جھوٹ کی دھند میں غائب ہو جاتا ہے۔ قانون، اصول اور اخلاقیات صرف کمزوروں کے لیے رہ جاتے ہیں، طاقتوروں کے لیے نہیں۔ جیفری ایپسٹین کا معاملہ ایک بار پھر عالمی میڈیا میں زیرِ بحث ہے۔ ایپسٹین ایک ایسا درندہ تھا جس پر الزام ہے کہ اس نے اپنی جنسی ہوس کی تسکین کے لیے سینکڑوں کم عمر بچیوں کو نشانہ بنایا، جن کی عمریں گیارہ سے چودہ برس کے درمیان بتائی جاتی ہیں۔ یہ جرم کسی اندھیری گلی میں نہیں ہوا بلکہ مبینہ طور پر دنیا کے اہم سیاستدانوں، شاہی خاندان کے افراد، کاروباری شخصیات اور علمی و سماجی دنیا کے معروف ناموں کے سائے میں پروان چڑھا۔ ایپسٹین نے اس گھناؤنے دھندے کے لیے اپنے دو ذاتی جزیرے خرید رکھے تھے، جہاں کسی قانون، کسی پولیس اور کسی میڈیا کی رسائی ممکن نہ تھی۔ یہی وہ مقام تھا جہاں طاقت، دولت اور جرم ایک دوسرے میں اس طرح مدغم ہو گئے کہ انسانیت بے آواز ہو گئی۔ 2008 میں ایپسٹین پہلی بار گرفتار ہوا، مگر ایک متنازعہ پلِی ڈیل کے تحت معمولی سزا پا کر بچ نکلا، ایک ایسی ڈیل جسے بعد میں “امریکہ کی بدترین ڈیل” قرار دیا گیا۔ 2019 میں وہ دوبارہ گرفتار ہوا، لیکن جیل میں پراسرار طور پر مردہ پایا گیا۔ سرکاری مؤقف کے مطابق یہ خودکشی تھی، مگر دنیا بھر میں اسے اس لیے مشکوک سمجھا جاتا ہے کہ کہیں اس کے ساتھ جڑے بااثر لوگوں کے نام سامنے نہ آ جائیں۔ ایپسٹین کی موت کے بعد اس کی قریبی ساتھی غزلین میکسویل کو گرفتار کیا گیا، اور عدالت میں یہ الزام ثابت ہوا کہ وہ کم عمر لڑکیوں کو ایپسٹین کے لیے تیار کرتی اور انہیں بااثر افراد تک پہنچانے میں کردار ادا کرتی تھی۔ سوشل میڈیا پر ان دنوں سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی ایک تصویر بھی اسی تناظر میں وائرل کی جا رہی ہے، جس میں وہ غزلین میکسویل کے ساتھ کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ مگر میری ذاتی رائے میں محض کسی تقریب یا سماجی محفل میں کسی متنازع شخصیت کے ساتھ تصویر بن جانا کسی کو اس گھناؤنے گروہ کا حصہ ثابت نہیں کرتا۔ ایسی قیاس آرائیاں بہتان کے زمرے میں آتی ہیں۔ سماجی تقریبات میں سیلیبریٹیز کے ساتھ تصاویر بننا ایک معمول کی بات ہے، جسے الزام میں بدل دینا صحافتی بددیانتی کے سوا کچھ نہیں۔ اس کیس سے جڑے بعض دیگر حقائق بھی چونکا دینے والے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق متاثرہ لڑکیوں کو خاموش کرانے کے لیے اربوں ڈالر کی سیٹلمنٹس کی گئیں۔ یہ سب اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جرم کتنا بڑا تھا اور اسے دبانے کے لیے کتنی غیر معمولی طاقت استعمال کی گئی۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ایپسٹین کے علاوہ اس کیس سے جڑے کم از کم تین افراد جیل میں مبینہ طور پر خودکشی کر چکے ہیں ۔ یہ اموات اس شبہے کو مزید گہرا کرتی ہیں کہ کہیں بہت سے طاقتور لوگ اس خوف میں مبتلا نہ تھے کہ ان کے نام بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ ملحد کہتے ہییں کہ دنیا اصول، ضوابط، قوانین اور انسانی چارٹرز بنانے میں اس حد تک ترقی کر چکی ہے کہ اسے اب کسی مذہب کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی، مگر حقیقت یہ ہے کہ اگر اس معاشرے سے خدا اور یومِ حساب کا تصور بھی نکال دیا جائے تو یہ آج بھی جنگل کے قانون سے باہر نہیں نکلاکہ جس کے پاس طاقت ہے وہ کچھ بھی کر سکتا ہے یہی وہ نام نہاد مہذب، جدید اور روشن خیال مغربی دنیا ہے جو ہمیں اخلاقیات اور انسانی اقدار کے سبق پڑھاتے نہیں تھکتی، مگر اندر سے انسان کتنا کم ظرف، کتنا گھٹیا اور کتنا سفاک ہو سکتا ہے، ایپسٹین کیس اس کی ایک ہولناک مثال ہے۔ نتیجہ بالکل سادہ ہے۔اگر آپ کے پاس دولت اور طاقت ہو تو کوئی قانون، کوئی اصول اور کوئی عدالت آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی، چاہے آپ دنیا کے کسی بھی کونے میں کیوں نہ ہوں۔ ایپسٹن فائلز کی تفصیلات تو جاری کی جارہی ہیں لیکن جس دنیا میں عالمی جنگیں اور معاشی حالات زیر بحث ہیں وہاں ان کم عمر بچیوں کی چیخیں اور ان کا استحصال وقت کی گرد میں جلد کہیں غائب ہوجائیں گی اور انہیں انصاف کے لئے یوم حساب کا انتظار کرنا پڑے گا #محموداصغرچودھری
Your comments about this column
اس کالم کے بارے میں آپ کے تاثرات
To change keyboard language from urdu to english or from english to urdu press CTRL+SPACE
آپ کا نام
Admin Login
LOGIN
MAIN MENU
کالمز
امیگریشن کالمز
تصاویر
رابطہ
تازہ ترین
فیڈ بیک
Mahmood Asghar Chaudhry
Crea il tuo badge
Mahmood Asghar Ch.