Mahmood Asghar
Choudhary
Home
Columns
Immigration Columns
Pictures
Contacts
Feedback
شب برات اور میرا پہلا انقلابی تجربہ ..... 3 فروری 2026
Download Urdu Fonts
شب برات اور میرا پہلا انقلابی پرچہ سچ لکھنا کتنا مشکل ہے اس کا پہلا عملی مظاہرہ مجھے دسویں جماعت میں ہی دیکھنے کو مل گیا تھا۔ انقلاب کس طرح مفادات کی بھینٹ چڑھتا ہے یہ میٹرک سے پہلے پہلے مجھے پتہ لگ گیا ۔ قصہ یوں ہے کہ بچپن میں جب بھی شب برات آتی ۔ ہم بھی پورے جوش و خروش سے تیاری کرتے۔ موم بتیاں خریدتے، دیواروں پر رگڑنے والے وہ پتے لیتے جو تڑ تڑ کی آواز نکالتے ان کا نام ہم نے “مچھر” رکھا ہوا تھا ۔ ہمیں آتشیں انار اور آسمان کی جانب لانچ کئے جانے والے راکٹ یعنی ہوائیاں خریدنے کی اجازت گھر والوں سے کبھی نہ ملی، امی کہتی تھیں پتر اللہ ناراض ہوتا ہے ۔ ادھر آسمان کی طرف کوئی چیز نہیں پھینکتے ۔ بے ادبی ہوتی ہے ۔ البتہ ۔ موم بتیاں اور پھلجڑیاں خریدنے کی اجازت تھی ۔اس کے علاوہ گاوں میں ملک امجد کی ٹریکٹر ٹرالیوں کی ویلڈنگ ورکشاپ سے ہم ایک پٹاس بنوا لیتے اور اس میں گندھک ڈالتے اور سارا دن “ٹھاپ ٹھاپ” کر کے محلے کی فضا کو میدانِ جنگ بنائے رکھتے۔ لیکن آٹھویں جماعت میں ہم نے اس کھیل تماشے سے توبہ کر لی ۔ ہوا کچھ یوں کہ ہمارا پڑوسی عباس شب برات کے دنوں میں شرلیاں خود تیار کرتا تھا ۔ اس کے والد شادیوں کے لئے گولے تیار کرتے تھے اور ان کے گھر میں آتشیں مصالحہ موجود ہوتا تھا ۔ ایک شب برات ہم نے ملکر وہ آتشی مصالحہ چوری کیا جو گولوں میں ڈالا جاتا ہے اور بانس کی کانیاں جمع کی انہیں چھوٹا چھوٹا کاٹ کر خود ہی شرلیاں تیار کر لیں ۔ یہ ہماری پہلی سائنسی ایجاد تھی ۔ ہمیں محسوس ہوا کہ اب ہمارا اپنا اسلحے کا کاروبار خوب چلے گا ۔ شام و شام ہم اپنے گولے بارود رکھ کر بیٹھ گئے ۔ لیکن ہمارا تجربہ اتنا کامیاب نہ رہا ۔ کچھ شرلیاں چل رہی تھی کچھ بالکل ٹھس تھیں ۔ میں نے ایک ٹھس شرلی ہاتھ میں پکڑی ہوئی تھی کہ یہ چل کیوں نہیں رہی اسے تھوڑا سا ہلایا تو وہ چل گئی لیکن اس کا منہ عباس کی طرف تھا ۔ آگ کی چنگاریاں سیدھا اس کے منہ پر پڑیں اس نے چلانا شروع کر دیا ۔ کوئی نقصان تو نہیں ہوا لیکن ہم نے اس دن طے کر لیا کہ یہ بہت غلط کام ہے ۔ اسلحے سے کھیلنا ٹھیک نہیں ہے ہمیں دینی کتابیں پڑھنے کا بہت شوق تھا ۔ میٹرک کے زمانے میں کسی عالم کی تحریر پڑھی کہ یہ شرلیاں، پٹاخے، پٹاس اور آتشیں کرتب دین کا حصہ نہیں بلکہ ثقافتی خرافات ہیں۔ ہمیں ایسا لگا جیسے ہم پر کوئی الہام یا گیان نازل ہو گیاہے ۔ فوراً فیصلہ کیا کہ اس سچ کی روشنی کو گاؤں کے اندھیروں تک پہنچانا ہمارا فرض عین ہے۔ ہمارے اندر کے انقلابی لکھاری نے انگرائی لی اور ہم نے ایک مضمون تیار کیا ۔ لیکن اب سوال تھا کہ اسے عوام تک پہنچائیں کیسے ۔ قومی اخبارات تک رسائی تھی نہیں۔ گجرات سے ایک اخبار نکلتا تھا ۔ روزنامہ جذبہ ۔ جی ہاں یہی جذبہ جس کا میں اب یورپ میں جنرل منیجر ہوں ۔ لیکن اس وقت جذبہ میں میرا کوئی واقف نہیں تھا اور ایک میٹرک کے بچے کا مضمون ویسے بھی کون چھاپتا ، اس لیے ہم نے خود ہی ایک انقلابی پرچہ تیار کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ ہم نے دو تین راتیں جاگ کر یہ پرچہ تیار کیا ۔ یہ پرچہ ہم نے اپنے دوستوں مدثر احمد، ایم ناصر اور صدیق کے ساتھ مل کر تیار کیا ۔ اس پرچے میں حوالوں کی بھرمار کر دی ۔ ہماری چونکہ کوئی انقلابی تنظیم نہیں تھی اس لئے ہم نے رعب ڈالنے کے لیے نیچے منجانب “فور اسٹار” لکھ دیا، تاکہ لوگ سمجھیں کوئی عالمی تحریک حرکت میں آ چکی ہے۔ پرچہ تو تیار ہوگیا لیکن ہمارے گاؤں میں پرنٹنگ پریس تو دور فوٹو کاپی مشین بھی نہ تھی، سو ہم چاروں دوستوں نے پاکٹ منی سے پیسے جوڑے اور خصوصی مشن پر گجرات جا کر نقول کروائیں۔ خود ہی لیوی تیار کی ۔ اور پھر ایک رات ہم نے ایک سیڑھی ڈھونڈی اور ساری رات لگا کر دیواروں پر یہ پرچے چسپاں کرتے رہے۔ ہمیں یقین تھا کہ گاؤں والے ہمارے علم و عرفان و اگہی اور انقلابی روشنی پر عش عش کر اٹھیں گے، ہمیں کندھوں پر بٹھائیں گے اور کہیں گے کہ ایسے انقلابی رائٹر ہمارے گاوں میں پیدا ہوگئے ہیں لیکن ہوا بالکل اس کے الٹ ۔ ہوا یوں کہ دکانداروں نے جب یہ پرچے دیکھے تو انہیں اپنی شرلیاں، پٹاخے اور آتشیں ذخیرہ والے بزنس خطرے میں پڑتا نظر آگیا۔ پہلے تو دہ سب غصے میں اگئے ۔ پھر سمجھانے کی کوشش کی اور جب ہم اپنی علمی معرفت پر ڈٹے رہے تو انہوں نے اگلی رات خاموشی سے ہماری ساری محنت پر پانی پھیر دیا اور تمام گلیوں سے ہمارے انقلابی اشتہار اتار دیے۔ ہمارا دل ٹوٹ گیا ۔ اتنے دنوں کی محنت اور انقلاب کی خواہش ایسی ہی دم توڑ گئے جیسے کسی نے ہمارے فوراسٹار چینل پر پیمرا کی پابندی لگوا دی ہو ہماری ساری “فور اسٹار” تحریک ایک دن میں زمین بوس ہو گئی۔ جیب خالی تھی، دوبارہ فوٹو کاپی کروانے کا بجٹ نہ تھا۔ اس دن ہمیں یہ عملی سبق ملا کہ یہاں لوگ ایسا کوئی بھی سچ نہیں سننا چاہتے جو ان کے مفادات کو نقصان پہنچاتا ہو۔ اس دن ہمیں پتہ چلا کہ سچ لکھیں گے تو واہ واہ نہیں ملے گی بلکہ بہت سے لوگوں کا غصہ ملے گا ، مخالفت ملے گی ، تنقید ملے گی #محموداصغرچودھری
Your comments about this column
اس کالم کے بارے میں آپ کے تاثرات
To change keyboard language from urdu to english or from english to urdu press CTRL+SPACE
آپ کا نام
Admin Login
LOGIN
MAIN MENU
کالمز
امیگریشن کالمز
تصاویر
رابطہ
تازہ ترین
فیڈ بیک
Mahmood Asghar Chaudhry
Crea il tuo badge
Mahmood Asghar Ch.